تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری
اسلامی فکر میں رہبری محض ایک منصب، لقب یا سیاسی عنوان نہیں بلکہ ایک دینی ذمہ داری ہے۔ رہبر وہ ہے جو علم کو عمل، تقویٰ کو بصیرت اور بصیرت کو اجتماعی ذمہ داری سے جوڑ سکے۔
قرآن مجید فرماتا ہے: ﴿فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾، ’’اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ ذکر سے پوچھو۔‘‘ (النحل: 43) اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ پیچیدہ معاملات میں اہلِ علم کی طرف رجوع کرنا دینی اور عقلی دونوں تقاضا ہے۔
لیکن ہر صاحبِ علم دینی رہبری کا اہل نہیں ہوتا۔ امام حسن عسکری علیہ السلام سے منقول ہے: «فَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنَ الْفُقَهَاءِ صَائِنًا لِنَفْسِهِ، حَافِظًا لِدِينِهِ، مُخَالِفًا لِهَوَاهُ، مُطِيعًا لِأَمْرِ مَوْلَاهُ، فَلِلْعَوَامِّ أَنْ يُقَلِّدُوهُ»؛ یعنی وہ فقیہ جو اپنے نفس کی حفاظت کرے، دین کا نگہبان ہو، خواہشِ نفس کی مخالفت کرے اور اپنے مولا کے حکم کا پابند ہو، اس کی پیروی کی جاسکتی ہے۔ اس روایت میں دینی قیادت کے بنیادی اوصاف واضح ہوگئے: علم کے ساتھ تقویٰ، کردار کے ساتھ خود احتسابی اور اختیار کے ساتھ اطاعتِ الٰہی۔ اس لیے محض علمی شہرت یا ظاہری مقام کسی شخصیت کو رہبری کا اہل نہیں بناتا۔
عصرِ غیبت میں یہ اصول مزید اہم ہوجاتا ہے۔ امام زمانہ علیہ السلام سے منسوب معروف توقیع میں ارشاد ہے: «وَأَمَّا الْحَوَادِثُ الْوَاقِعَةُ فَارْجِعُوا فِيهَا إِلَى رُوَاةِ حَدِيثِنَا، فَإِنَّهُمْ حُجَّتِي عَلَيْكُمْ وَأَنَا حُجَّةُ اللَّهِ»؛ ’’پیش آنے والے حوادث میں ہمارے احادیث کے راویوں کی طرف رجوع کرو، کیونکہ وہ تم پر میری حجت ہیں اور میں اللہ کی حجت ہوں۔‘‘ اس میں ’’حوادثِ واقعہ‘‘ کا مفہوم خاص اہمیت رکھتا ہے۔ دین صرف ماضی کے مسائل کا مجموعہ نہیں؛ ہر زمانے کے نئے سوالات اور اجتماعی حالات میں قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی بھی ضروری ہے۔
قرآن اجتماعی معاملات میں مشاورت کو بھی بنیادی اصول قرار دیتا ہے: ﴿وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ﴾، ’’ان کے معاملات باہمی مشورے سے طے ہوتے ہیں۔‘‘ (الشوریٰ: 38) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے فرمایا گیا: ﴿وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ﴾، ’’معاملات میں ان سے مشورہ کیجیے، پھر جب فیصلہ کرلیں تو اللہ پر بھروسہ کیجیے۔‘‘ (آل عمران: 159) یوں اسلامی قیادت علم، اصول، مشاورت اور ذمہ دارانہ فیصلے کا نام ہے۔
اسی معیار کی روشنی میں ایران کی موجودہ رہبری کو سمجھنا ایک اہم معاصر موضوع ہے۔ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے انقلابِ اسلامی کے بعد ولایتِ فقیہ پر مبنی نظام کی عملی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا، جبکہ ان کے بعد آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای رحمۃ اللہ علیہ نے طویل عرصے تک اس منصب کی ذمہ داری سنبھالی۔ ان کے بعد آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای دام ظلہ العالی موجودہ رہبر ہیں۔ موجودہ حالات میں ان کی رہبری ایک ایسے مرحلے میں ہے جب ایران شدید جنگی، اقتصادی اور بین الاقوامی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔
یہاں اصل بحث کسی شخصیت کی محض تعریف نہیں بلکہ معیارِ قیادت کا اطلاق ہے۔ اگر امام زمانہ علیہ السلام نے حوادثِ جدیدہ میں اہلِ علم کی طرف رجوع کی ہدایت فرمائی اور اہلِ بیت علیہم السلام نے فقیہ کے لیے دین کی حفاظت، خواہشِ نفس کی مخالفت اور اطاعتِ الٰہی کو بنیادی صفات قرار دیا، تو عصرِ حاضر کے رہبر کو بھی انہی اصولوں کی روشنی میں سمجھنا چاہیے۔ اس لیے رہبری کی شناخت نام، خاندان، شہر یا شہرت سے نہیں بلکہ علمی اہلیت، دینی وابستگی، اخلاقی کردار، زمانے کی معرفت اور اجتماعی ذمہ داری سے ہوتی ہے۔
آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای دام ظلہ العالی کی رہبری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب قیادت سے غیر معمولی بصیرت اور فیصلہ سازی کی توقع ہے۔ جنگ، بیرونی دباؤ، اقتصادی مشکلات اور عالمی کشیدگی کے درمیان قوم کا حوصلہ برقرار رکھنا، قومی وحدت کی حفاظت کرنا اور دینی اصولوں کے ساتھ ملکی مفاد کو سامنے رکھنا ایک بڑا امتحان ہے۔ حالیہ رپورٹوں میں ان کی جانب سے اہم قومی و خارجہ پالیسی کے معاملات میں فیصلہ کن اختیار استعمال کیے جانے کا ذکر بھی ملتا ہے۔
آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای دام ظلہ العالی کے انتخاب کے بعد ایران کے مختلف شہروں میں سامنے آنے والے وسیع عوامی اجتماعات، حمایت کے اظہار اور ریاستی و عسکری اداروں کی مضبوط وابستگی اس امر کی نمایاں عکاسی کرتی ہے کہ ان کی رہبری کو انقلاب کے حامی طبقات میں گہرا قومی اعتماد حاصل ہے۔ ملتِ ایران کے لیے ان کی قیادت محض ایک آئینی منصب نہیں بلکہ اسلامی انقلاب کے تسلسل، قومی خودمختاری، دینی تشخص اور ملکی وحدت کے تحفظ کی علامت کے طور پر دیکھی جارہی ہے۔ موجودہ بحرانوں اور بیرونی دباؤ کے باوجود ان کی قیادت کے گرد پیدا ہونے والا یہ اجتماعی اعتماد ان کی فیصلہ سازی، بصیرت، استقامت اور قیادت کی صلاحیت کو نمایاں کرتا ہے۔ دعا ہے کہ پروردگارِ عالم انہیں صحت، قوت، حکمت، بصیرت اور ثابت قدمی عطا فرمائے، ملتِ ایران کی خدمت اور اسلامی نظام کی حفاظت میں ان کی مدد فرمائے اور ان کی رہبری کو ایران کے لیے امن، سربلندی، وحدت اور خیر کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔
ایک رہبر کی قوت صرف اختیارات میں نہیں بلکہ اس اعتماد میں ہوتی ہے جو وہ مشکل وقت میں قوم کے اندر پیدا کرتا ہے۔ آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای دام ظلہ العالی کے سامنے بھی یہی تاریخی ذمہ داری ہے کہ وہ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے قائم کردہ نظام اور آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای رحمۃ اللہ علیہ کے دورِ رہبری کے بعد بدلتے ہوئے حالات میں ایران کی دینی شناخت، قومی وحدت اور عوامی مفاد کی حفاظت کرتے ہوئے ملک کو آگے لے جائیں۔
قرآن کا جامع اصول ہے: ﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ﴾، ’’بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔‘‘ (الحجرات: 13) اس لیے اسلامی قیادت کا معیار محض اقتدار نہیں بلکہ تقویٰ، اہلیت اور جواب دہی ہے۔ جتنا بڑا منصب ہوگا، اتنی ہی بڑی ذمہ داری بھی ہوگی۔
رہبرِ وقت کی پہچان کا درست طریقہ یہ ہے کہ شخصیت سے پہلے اصول، عنوان سے پہلے اہلیت، دعوے سے پہلے عمل اور شہرت سے پہلے کردار کو دیکھا جائے۔ زمانہ بدلتا ہے، حوادث کی صورتیں تبدیل ہوتی ہیں اور مسائل نئے ہوتے رہتے ہیں، لیکن دین کی حفاظت، حق کی شناخت اور صالح رہنمائی کی ضرورت ہمیشہ باقی رہتی ہے۔ یہی قرآن و اہلِ بیت علیہم السلام کا وہ معیار ہے جو ہر دور کی دینی قیادت کو سمجھنے کے لیے بنیادی کسوٹی فراہم کرتا ہے۔










آپ کا تبصرہ